پاکستان اور کویت نے توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے کویت پاکستان اسٹریٹجک اسٹوریج منصوبے تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت منگل کے روز وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں کویت کے سفیر ناصر عبدالرحمن جاسر المطیری کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
ملاقات میں خطے کی صورتحال، توانائی تعاون، اور پیٹرولیم کے شعبے میں مشترکہ مواقع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث توانائی سپلائی کے عالمی راستوں میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ پاکستان نے اس مشکل صورتحال میں کویت کی بروقت معاونت کو سراہا، جس کے ذریعے ایندھن کی فراہمی ممکن بنائی گئی۔
سرکاری بیان کے مطابق “خیرپور” نامی جہاز تقریباً 45 ہزار ٹن ڈیزل اور 10 ہزار ٹن جیٹ فیول لے کر بحفاظت پاکستان پہنچا۔ یہ ایندھن خصوصی منظوریوں کے تحت کویت سے پاکستان روانہ کیا گیا تاکہ ملک میں ایندھن کی مسلسل فراہمی برقرار رکھی جا سکے۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاری تنازع کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں، خاص طور پر توانائی اور تجارت کے شعبوں پر۔
کویت کے سفیر نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ذمہ دارانہ کردار ادا کر کے عالمی سطح پر اپنی مثبت شناخت کو مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو خطے میں امن کے لیے اپنی تعمیری کوششیں جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
دونوں ممالک نے ریفائننگ اور توانائی انفراسٹرکچر کے شعبوں میں مستقبل کے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ماہرین کے مطابق کویت پاکستان اسٹریٹجک اسٹوریج منصوبے پاکستان کی توانائی سکیورٹی بہتر بنانے، ایندھن کے ذخائر بڑھانے اور طویل مدتی معاشی استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔