یورپی یونین سوشل میڈیا پابندی

یورپی یونین میں سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز

یورپی یونین میں یورپی یونین سوشل میڈیا پابندی کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائین نے اشارہ دیا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے کی عمر کی حد بڑھانے کی تجویز اس موسمِ گرما میں پیش کی جا سکتی ہے۔

کوپن ہیگن میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپی یونین بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے “سوشل میڈیا میں تاخیر” پر غور کر رہی ہے تاکہ ان کی ذہنی اور سماجی نشوونما بہتر ہو سکے۔

انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ماہرین کا ایک پینل کام کر رہا ہے اور اس کی رپورٹ کی بنیاد پر یورپی یونین سوشل میڈیا پابندی سے متعلق قانونی مسودہ تیار کیا جا سکتا ہے۔ فرانس سمیت کئی یورپی ممالک پہلے ہی عمر کی حد 15 سال یا اس سے زیادہ کرنے کی حمایت کر رہے ہیں۔

انہوں نے آسٹریلیا کو اس معاملے میں “رہنما ملک” قرار دیا، جہاں سوشل میڈیا استعمال کرنے کی کم از کم عمر 16 سال مقرر کی گئی ہے۔ یورپی یونین بھی اسی طرز پر اپنی پالیسی بنانے پر غور کر رہی ہے۔

یہ مجوزہ یورپی یونین سوشل میڈیا پابندی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری ختم نہیں کرے گی بلکہ انہیں ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت پلیٹ فارم کو زیادہ محفوظ بنانا ہوگا۔

سب سے بڑا چیلنج عمر کی درست تصدیق کا نظام ہے۔ اس مقصد کے لیے یورپی یونین نے ایک ایپ متعارف کرائی ہے، تاہم اس پر سکیورٹی خدشات اور تنقید بھی سامنے آئی ہے۔

اس کے باوجود یورپی کمیشن کا مؤقف ہے کہ بچوں کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر یہ تجویز منظور ہوتی ہے تو یورپ میں سوشل میڈیا کے استعمال کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین