پرنس رحیم الحسینی آغا خان پنجم جمعہ کے روز گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں وہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران مختلف تقریبات اور عوامی اجتماعات میں شرکت کریں گے۔ پرنس رحیم آغا خان کا دورہ خطے میں خاص توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
ریاستی میڈیا کے مطابق گلگت ایئرپورٹ پر گلگت بلتستان کے نگراں وزیراعلیٰ جسٹس (ر) یار محمد اور اعلیٰ سول و فوجی حکام نے ان کا استقبال کیا۔ شہر کے مختلف مقامات پر خیرمقدمی بینرز اور پیغامات بھی آویزاں کیے گئے۔
پرنس رحیم آغا خان کا دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ وہ گزشتہ سال اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا بننے کے بعد پہلی بار پاکستان آئے ہیں۔ وہ بدھ کے روز ایک ہفتے کے دورے پر پاکستان پہنچے تھے جو 26 مئی تک جاری رہے گا۔
پاکستان آمد کے بعد پرنس رحیم نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقاتیں کیں۔ حکام کے مطابق ان ملاقاتوں میں انسانی ترقی، تعلیم، صحت اور فلاحی منصوبوں پر تعاون کے امور زیر بحث آئے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دیے گئے ناشتے میں بھی پرنس رحیم نے شرکت کی۔ وزیراعظم آفس کے مطابق انہوں نے پاکستان کے ساتھ انسانی ترقی کے مختلف منصوبوں میں تعاون جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
گلگت بلتستان میں پرنس رحیم کے دورے کے دوران ہنزہ، گلگت سٹی، گاہکوچ بالا اور تاؤس یاسین میں بڑے عوامی اجتماعات متوقع ہیں۔ حکومت نے انہیں سرکاری مہمان کا درجہ دیا ہے جبکہ سکیورٹی اور انتظامات کے لیے خصوصی تیاریاں مکمل کی گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پرنس رحیم آغا خان کا دورہ اسماعیلی برادری اور گلگت بلتستان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ یہ 2024 کے بعد ان کا دوسرا دورہ پاکستان ہے جب انہیں آغا خان خاندان کی خدمات کے اعتراف میں نشانِ پاکستان سے نوازا گیا تھا۔