امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے توانائی مراکز پر حملوں میں وقفے کو اپریل تک بڑھانے کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ جاری جنگ کے دوران سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے اثرات نہ صرف خطے کے استحکام بلکہ عالمی معیشت اور توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور مثبت سمت میں پیشرفت ہو رہی ہے، تاہم ایرانی حکام نے کسی بھی براہ راست بات چیت کی تردید کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق پہلے دیا گیا پانچ روزہ وقفہ اب بڑھا کر دس دن کر دیا گیا ہے تاکہ سفارتی عمل کو مزید وقت مل سکے۔
دوسری جانب تقریباً چار ہفتوں سے جاری جنگ نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے، تیل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ ایل این جی اور کھادوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے، جو دنیا کی توانائی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔
وقفے کے باوجود میدان جنگ میں کشیدگی برقرار ہے، ایران نے اسرائیل کے شہروں اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جبکہ اسرائیل نے بھی ایران میں اہم تنصیبات پر حملے جاری رکھے۔ ان حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
سفارتی سطح پر پاکستان، ترکی اور مصر سمیت کئی ممالک پس پردہ مذاکرات میں کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ ایران نے امریکی 15 نکاتی منصوبے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مزید شرائط پیش کی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ تنازع سفارتکاری کے ذریعے حل ہوگا یا مزید شدت اختیار کرے گا۔