اسلام آباد: فضیلہ عباسی کے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں ان کے بھائی حمزہ عباسی کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تفتیش کاروں نے مالیاتی لین دین کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں ان کی والدہ اور حمزہ عباسی کے مشترکہ بینک اکاؤنٹ کے ذریعے بڑی رقم کی منتقلی شامل ہے۔
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ لاکھوں ڈالر اور درہم بیرون ملک منتقل کیے گئے، جن کے بارے میں ٹیکس حکام کو ابتدائی طور پر معلومات نہیں تھیں۔ فضیلہ عباسی نے صرف تین بینک اکاؤنٹس کے لیے ٹیکس ریٹرنز جمع کروائے، تاہم ان اکاؤنٹس میں بھی بے ضابطگیاں سامنے آئیں، جس سے مالی شفافیت پر سوالات پیدا ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فضیلہ عباسی نے رقم کی اصل منبع کے بارے میں کوئی قابل قبول دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کیا، جس پر ایف آئی اے نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیا ہے۔ مزید برآں، تفتیش کے دوران 200,000 ڈالر کی رسیدیں ڈرائیور اور دوستوں کے نام پر پائی گئیں، جو قانونی طور پر ناقابل قبول ہیں۔
تفتیش کاروں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ زیرِ تحقیق مالی لین دین کا فضیلہ عباسی کی پیشہ وارانہ آمدنی یا ظاہر شدہ وسائل سے کوئی تعلق نہیں، جو ان کے دفاع کو مزید کمزور کرتا ہے۔
یہ کیس اب بھی فعال تفتیش کے مراحل میں ہے اور ایف آئی اے کی ٹیم مالی ریکارڈز اور متعلقہ افراد کی جانچ جاری رکھے ہوئے ہے۔ تفتیش کے دوران ممکن ہے مزید اہم پیش رفت سامنے آئے۔