نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار 31 مارچ کو چین کے سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے، جو وانگ یی کی دعوت پر ہو رہا ہے اور دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے، جبکہ اس سے علاقائی اور عالمی سفارتکاری پر بھی اثر پڑنے کی توقع ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، اس دورے کے دوران بیجنگ میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوں گی، جن میں علاقائی صورتحال، عالمی امور اور دوطرفہ تعاون پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی، جبکہ اقتصادی روابط، سیکیورٹی تعاون اور جاری منصوبوں پر پیش رفت بھی زیر غور آئے گی۔
🔊PR No.8️⃣3️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Curtain Raiser: Visit of Deputy Prime Minister/Foreign Minister to China, March 31,2026 https://t.co/1P5pAE7iIV pic.twitter.com/GLMSQLynlb
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) March 30, 2026
پاکستان اور چین کے تعلقات کو آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ قرار دیا جاتا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے بڑے منصوبے دوطرفہ تعلقات کا اہم ستون ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ اسحاق ڈار یہ دورہ اپنی صحت کے مسائل کے باوجود کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں حال ہی میں کندھے کی ہلکی فریکچر کا سامنا ہوا تھا، تاہم انہوں نے دورہ ملتوی نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جو چین کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
ادھر حالیہ ٹیلیفونک رابطے میں دونوں وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جہاں چین نے ایران سے متعلق تنازع میں امن مذاکرات کی حمایت کی، جبکہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی میں سعودی عرب، ترکی اور مصر کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور حکام کے مطابق بالواسطہ سفارتی رابطے جاری ہیں۔