برطانیہ ایران جنگ میں شامل نہیں ہوگا، وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ان کا ملک ایران سے متعلق کسی بھی جنگ میں حصہ نہیں لے گا۔ لندن میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے دو ٹوک مؤقف پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ جنگ برطانیہ کی نہیں ہے اور حکومت کسی بھی صورت فوجی مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مفاد اور عوام کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔
کیئر اسٹارمر نے خبردار کیا کہ ایران سے متعلق کشیدگی کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق معاشی استحکام، توانائی کی فراہمی اور عالمی امن متاثر ہو سکتا ہے، اسی لیے برطانیہ ایران جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ سفارتی راستہ اختیار کرے گا۔ حکومت عالمی سطح پر مذاکرات اور تعاون کے ذریعے تنازع کو کم کرنے کی کوشش کرے گی۔
اہم بحری راستوں کے حوالے سے بھی حکومت متحرک ہے۔ حکام بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر صورتحال کو مستحکم رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ تجارت متاثر نہ ہو۔
دوسری جانب امریکا کی جانب سے اس فیصلے پر ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ اور فرانس کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے اسے اتحاد کے خلاف قرار دیا۔
تمام دباؤ کے باوجود وزیراعظم نے واضح کیا کہ قومی مفاد سب سے اہم ہے۔ انہوں نے آخر میں دوبارہ کہا کہ برطانیہ ایران جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور امن و استحکام کو ترجیح دی جائے گی۔