اسلام آباد راولپنڈی سیکیورٹی لاک ڈاؤن کے باعث جڑواں شہروں میں عام زندگی شدید متاثر ہوئی ہے، کیونکہ امریکی اور ایرانی وفود کی آمد کے پیش نظر سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔
انتظامیہ نے اولڈ ایئرپورٹ روڈ اور نور خان ایئر بیس جانے والے راستوں کو کنٹینرز اور خاردار تاروں کے ذریعے بند کر دیا، جس کے نتیجے میں متعدد رہائشی علاقے مکمل طور پر محدود ہو گئے ہیں۔
شاہ خالد کالونی، گلزارِ قائد، ایئرپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی اور منگتل ٹاؤن سمیت کئی علاقے اسلام آباد راولپنڈی سیکیورٹی لاک ڈاؤن سے بری طرح متاثر ہوئے، جہاں شہری گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے۔
ٹرانسپورٹ نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔ میٹرو بس اور الیکٹرک بس سروس جزوی طور پر معطل یا متبادل راستوں پر منتقل کر دی گئی، جس سے مسافروں کو طویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے۔
شہریوں نے شکایت کی کہ انہیں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، جس کے باعث وہ خوراک اور ضروری اشیاء ذخیرہ نہیں کر سکے۔ پانی اور بنیادی اشیاء کی قلت بھی رپورٹ کی گئی۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات غیر ملکی وفود کی فول پروف سیکیورٹی کے لیے ضروری تھے۔ پانچ ہزار سے زائد پولیس اہلکار، ایلیٹ فورس اور دیگر سیکیورٹی ادارے تعینات کیے گئے ہیں۔
اگرچہ انتظامیہ نے متبادل راستوں اور ٹریفک پلان کا اعلان کیا ہے، لیکن اسلام آباد راولپنڈی سیکیورٹی لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات اور روزمرہ زندگی میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔