ایران اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں فعال طور پر شرکت کرے گا تاہم امریکا کی پالیسیوں پر گہرے شکوک و شبہات برقرار ہیں۔
ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا کہ ایران ایران اسلام آباد مذاکرات میں بھرپور طریقے سے حصہ لے گا، لیکن امریکا کی “دھوکہ دہی والی فطرت” کے باعث اعتماد کا بحران بدستور موجود ہے۔
انہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے اور مختلف فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد دی ہے۔
نائب صدر کے مطابق ایران مذاکرات میں مکمل اتھارٹی کے ساتھ شریک ہوگا اور اپنی فوجی کامیابیوں کو سفارتی کامیابی میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا، جو ایران اسلام آباد مذاکرات کا بنیادی مقصد ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ 40 روزہ جنگ کے دوران ایران نے دشمن کے اندازوں کو غلط ثابت کیا اور اسے اسٹریٹیجک سطح پر اہم کامیابی حاصل ہوئی، جو خطے کی صورتحال میں ایک اہم موڑ ہے۔
محمد رضا عارف نے اس جنگ کو علاقائی اور عالمی حکمت عملی میں تبدیلی کا فیصلہ کن مرحلہ قرار دیتے ہوئے ایرانی قوم کے عزم اور اتحاد کو سراہا۔
اگرچہ ایران ایران اسلام آباد مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے، لیکن امریکی پالیسیوں پر عدم اعتماد اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتا ہے۔