بھارت نے بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد پہلی بار بھارت مشرق وسطیٰ بحران ردعمل کے تحت مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر باضابطہ مؤقف اختیار کیا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے لبنان میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اپنی بھارت مشرق وسطیٰ بحران ردعمل پالیسی میں تبدیلی دکھا رہی ہے۔
ترجمان رندھیر جیسوال نے اسرائیل کا نام لیے بغیر کہا کہ لبنان میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان انتہائی تشویشناک ہے اور عالمی قوانین، خودمختاری اور سلامتی کے احترام پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت موجودہ صورتحال کو انتہائی پریشان کن سمجھتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ بھارت اقوام متحدہ کی امن فوج میں حصہ لیتا ہے، جو اس کے بھارت مشرق وسطیٰ بحران ردعمل کا اہم پہلو ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں لبنان پر شدید فضائی حملے کیے گئے ہیں، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
سول ڈیفنس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جس نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کیا ہے اور بھارت مشرق وسطیٰ بحران ردعمل کو مزید اہم بنا دیا ہے۔