شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی نگرانی میں ایک نیا شمالی کوریا میزائل تجربہ کلسٹر وار ہیڈز کیا گیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ تجربہ فوجی صلاحیتوں میں مزید بہتری کے لیے کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جدید ہواسونگ-11 را مختصر فاصلے کے متعدد میزائل ایک جزیرے کے ہدف پر فائر کیے گئے۔ حکام کے مطابق شمالی کوریا میزائل تجربہ کلسٹر وار ہیڈز کا مقصد نئے ہتھیاروں کی طاقت اور کارکردگی کو جانچنا تھا۔
میزائلوں نے ہدف کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا اور بڑے علاقے میں اثر دکھایا، جسے حکام نے مضبوط حملہ آور صلاحیت قرار دیا۔ یہ شمالی کوریا میزائل تجربہ کلسٹر وار ہیڈز کی افادیت کا اہم مظاہرہ سمجھا جا رہا ہے۔
جنوبی کوریا نے ان میزائل تجربات کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے پیانگ یانگ سے ایسے اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شمالی کوریا میزائل تجربہ کلسٹر وار ہیڈز پر خطے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق تجربے کے دوران اعلیٰ فوجی کمانڈرز کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ شمالی کوریا فرنٹ لائن دفاعی حکمت عملی کو مضبوط بنا رہا ہے۔ شمالی کوریا میزائل تجربہ کلسٹر وار ہیڈز اس حکمت عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
کم جونگ اُن نے مبینہ طور پر تجربے کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ کئی سالوں کی محنت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے فوجی ٹیکنالوجی میں مزید پیش رفت پر زور دیا، خاص طور پر شمالی کوریا میزائل تجربہ کلسٹر وار ہیڈز کے ذریعے۔
بین الاقوامی سطح پر ان تجربات کی مذمت کی گئی ہے اور مذاکرات کی اپیل کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا میزائل تجربہ کلسٹر وار ہیڈز خطے میں خطرناک عسکری توازن کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔