ویتنام بھارت دفاعی مذاکرات اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں جب ویتنام کے صدر تو لام سرکاری دورے پر نئی دہلی پہنچے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
نئی دہلی میں ویتنام کے صدر کا پرتپاک استقبال کیا گیا جہاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر دروپدی مرمو بھی موجود تھے۔ ویتنام بھارت دفاعی مذاکرات کو خطے میں اسٹریٹجک تعلقات کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق یہ مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھولیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویتنام بھارت دفاعی مذاکرات میں دفاعی شراکت داری اور تجارتی روابط کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم پہلے ہی تقریباً 15.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ توقع ہے کہ ویتنام بھارت دفاعی مذاکرات میں مزید اقتصادی مواقع، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور صنعت کے شعبوں میں تعاون پر بات ہوگی۔
ذرائع کے مطابق دفاعی تعاون میں جدید ہتھیاروں اور میزائل نظام سے متعلق معاملات بھی زیر غور آ سکتے ہیں، اگرچہ اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔ یہ پہلو ویتنام بھارت دفاعی مذاکرات کو مزید اہم بناتا ہے۔
صدر تو لام نے بھارتی سلامتی مشیر اجیت دوول سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں کیں تاکہ سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ ملاقاتیں ویتنام بھارت دفاعی مذاکرات کا اہم حصہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق ویتنام بھارت دفاعی مذاکرات ایشیا میں نئی اسٹریٹجک شراکت داریوں کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو خطے میں استحکام اور ترقی کو فروغ دیں گے۔