مارکو روبیو پوپ لیو ملاقات آج ویٹیکن میں ہونے جا رہی ہے، جسے عالمی سطح پر اہم سفارتی ملاقات قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ویٹیکن کے درمیان ایران جنگ اور دیگر پالیسیوں پر اختلافات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، جو قومی سلامتی کے مشیر بھی ہیں، ویٹیکن کے اپاسٹولک پیلس میں پوپ لیو سے ملاقات کریں گے۔ یہ تقریباً ایک سال بعد کسی امریکی اعلیٰ عہدیدار کی ویٹیکن کے سربراہ سے پہلی بڑی ملاقات ہوگی۔
مارکو روبیو پوپ لیو ملاقات اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے پوپ لیو پر ایران جنگ اور امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے سخت تنقید کی ہے۔ پوپ لیو نے عالمی سطح پر امن اور جنگ بندی کے حق میں آواز بلند کی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ ملاقات تقریباً 30 منٹ جاری رہے گی جس کے بعد روبیو ویٹیکن کے اعلیٰ سفارت کار کارڈینل پیٹرو پارولن سے بھی ملاقات کریں گے۔ بات چیت میں عالمی امن، مذہبی آزادی اور بین الاقوامی تنازعات زیر بحث آئیں گے۔
امریکی صدر کی تنقید کے بعد ویٹیکن اور واشنگٹن کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، تاہم پوپ لیو نے واضح کیا ہے کہ چرچ کا مؤقف ہمیشہ امن اور انسانی فلاح کے حق میں رہا ہے۔
مارکو روبیو پوپ لیو ملاقات اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ روبیو خود ایک کیتھولک ہیں۔ وہ ملاقات میں مذہبی آزادی، خصوصاً کیوبا جیسے ممالک میں صورتحال پر بات کریں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ ملاقات کھلی اور واضح گفتگو پر مشتمل ہوگی، جو مستقبل میں امریکا اور ویٹیکن کے تعلقات کی سمت کا تعین کر سکتی ہے۔