ٹرمپ ایران جنگ بندی

جنگ بندی کے باوجود گولہ باری، ٹرمپ نے ایران کو سخت پیغام دے دیا

ٹرمپ ایران جنگ بندی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے کیونکہ خلیجی علاقے میں امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان نئی جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے باوجود جنگ بندی برقرار ہے۔ اس صورتحال نے عالمی امن اور تیل کی فراہمی کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی بحریہ کے تین جنگی جہاز آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزرے جبکہ انہیں ایرانی حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی جہاز محفوظ رہے اور ایرانی حملہ آوروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں دیا۔

دوسری جانب ایران نے امریکہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے ایک آئل ٹینکر اور قشم جزیرے کے قریب شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے جواباً امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے کسی بھی نقصان کی تردید کی ہے۔

حالیہ کشیدگی کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ میں بے چینی دیکھی گئی۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل اور گیس ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ نئی جھڑپوں کی خبروں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی محتاط رجحان دیکھا گیا۔

اس تمام صورتحال کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات اب بھی جاری ہیں اور ایران امریکی شرائط سے آگاہ ہے، خاص طور پر جوہری ہتھیاروں سے متعلق مطالبات پر۔ تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا کہ انہوں نے ابھی تک امریکی تجویز پر حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

اپنی گفتگو کے دوران ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کی تعریف بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کے دوران امریکہ سے مزید کارروائی نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ ٹرمپ نے پاکستانی قیادت اور فیلڈ مارشل کو “شاندار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سفارتی کوششوں میں مثبت کردار ادا کیا۔

موجودہ ٹرمپ ایران جنگ بندی صورتحال عالمی سیاست، معیشت اور خطے کی سلامتی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو امن مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں اور عالمی معیشت پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ فی الحال دونوں ممالک مکمل جنگ سے بچنے اور مذاکرات جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین