آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام تین روزہ ’آرٹس المنائی فیسٹیول 2026‘ کا کراچی میں رنگا رنگ افتتاح کر دیا گیا۔ فیسٹیول کی افتتاحی تقریب میں فنونِ لطیفہ، ادب اور ثقافت سے وابستہ شخصیات سمیت طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
فیسٹیول کا افتتاح معروف مزاح نگار اور دانشور انور مقصود نے صدر آرٹس کونسل احمد شاہ کے ہمراہ ’المنائی آرٹ نمائش‘ کی ربن کاٹ کر کیا۔

افتتاحی تقریب میں آرٹس کونسل کے نائب صدر منور سعید، سیکرٹری اعجاز فاروقی، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، فنونِ لطیفہ سے وابستہ معروف شخصیات اور طلبہ نے بھرپور شرکت کی۔
احمد پرویز آرٹ گیلری میں منعقد ہونے والی ’المنائی آرٹ نمائش‘ میں 19 طلبہ کے تیار کردہ 31 منفرد فن پارے نمائش کیلئے پیش کیے گئے، جنہوں نے شائقینِ فن کی بھرپور توجہ حاصل کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ آج خوشی کا دن ہے کیونکہ نوجوان فنکاروں کو ان کی محنت کا اعتراف مل رہا ہے۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی پہلی نمائش 1958 میں جبکہ معروف مصور صادقین کی پہلی نمائش 1957 میں منعقد ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس دور میں ان کی پینٹنگ کی قیمت 100 روپے جبکہ صادقین کی پینٹنگ 800 روپے میں فروخت ہوتی تھی، مگر آج نوجوان فنکاروں کے فن پاروں کی قیمتیں دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔
اس موقع پراحمد شاہ نے کہا کہ انہیں اپنی فیکلٹی اور طلبہ کی صلاحیتوں پر فخر ہے۔ ان کے مطابق آرٹس کونسل نے محدود وسائل سے میوزک اکیڈمی کا آغاز کیا تھا اور اب ادارہ نوجوان ٹیلنٹ کو بھرپور مواقع فراہم کر رہا ہے۔
تین روزہ ’آرٹس المنائی فیسٹیول 2026‘ 10 مئی تک جاری رہے گا، جس میں تھیٹر، موسیقی، کلاسیکل و فوک ڈانس، لائیو پرفارمنس، آرٹ نمائش اور مکالماتی نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا۔