پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج مدرز ڈے 2026 منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد ماؤں کی بے لوث محبت، قربانیوں اور خاندان و معاشرے کے لیے ان کے کردار کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ ماں وہ عظیم ہستی ہے جو اپنی پوری زندگی اولاد کی خوشیوں اور بہتر مستقبل کے لیے وقف کر دیتی ہے۔
ماں ایک ایسا رشتہ ہے جو ہر حال میں اپنی اولاد کا ساتھ دیتا ہے۔ دن ہو یا رات، ماں اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کیلئے مسلسل محنت کرتی ہے۔ وہ اپنی تکالیف اور مشکلات کو چھپا کر بچوں کیلئے آسانیاں پیدا کرتی ہے۔
ماؤں کا عالمی دن پہلی مرتبہ 1911ء میں امریکا کی ایک ریاست میں منایا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ روایت دنیا بھر میں مقبول ہوگئی۔ پاکستان، اٹلی اور مختلف دیگر ممالک میں ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو مدرز ڈے منایا جاتا ہے۔
اگرچہ حقیقت میں ہر دن ماں کا دن ہوتا ہے، تاہم اس خاص دن کا مقصد ماؤں کی عظمت اور قربانیوں کو اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن معاشرے کو یہ پیغام دیتا ہے کہ ماں کی عزت اور خدمت صرف ایک دن تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔
آج کی مائیں گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ عملی زندگی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ بہت سی خواتین اپنے بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت اور روشن مستقبل کیلئے ملازمتیں بھی کرتی ہیں اور گھر کے امور بھی احسن انداز میں سنبھالتی ہیں۔
تمام مشکلات اور چیلنجز کے باوجود ایک ماں اپنے بچوں کی کامیابی اور خوشی کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار رہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مضبوط خاندان اور بہترین معاشرہ ایک باصلاحیت اور محبت کرنے والی ماں ہی تشکیل دیتی ہے۔
مدرز ڈے کے موقع پر پاکستان میں بڑھتے ہوئے اولڈ ہومز بھی ایک اہم سماجی مسئلے کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی بچوں کی پرورش میں گزاری، آج تنہائی کا شکار ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماؤں کی محبت اور خدمت زندگی بھر جاری رہنی چاہیے۔