آسٹریا میں 14 سال سے کم بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد

آسٹریا نے 14 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد کم عمر بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ بنانا بتایا گیا ہے۔ یہ قانون جون 2026 کے آخر تک متعارف کرایا جائے گا اور اس کے تحت اسکولوں میں میڈیا آگاہی کے مضامین بھی شامل کیے جائیں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا جا رہا ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر بچوں کو توہین آمیز رویے، دھوکہ دہی اور ذہنی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ آن لائن گمراہ کن معلومات سے تحفظ بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ یہ پابندی آسٹریلیا کی حالیہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کم عمر بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے زیادہ محتاط ہو رہے ہیں۔

آسٹرین حکومت کے مطابق، نئے بل میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ اسکولوں میں بچوں کو آن لائن مواد کو پہچاننے اور محفوظ رہنے کی تربیت دی جائے، تاکہ وہ غیر مناسب مواد یا جھوٹی معلومات سے آگاہ رہیں۔ تاہم، ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ عمر کی تصدیق کے لیے کون سا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ اس قانون کا بنیادی مقصد بچوں کے آن لائن تحفظ کو یقینی بنانا اور ان کی دماغی صحت پر منفی اثرات سے بچانا ہے۔ اس حوالے سے حکومت نے کہا کہ قانون متعارف کرانے کے بعد والدین، تعلیمی ادارے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم اس پر عملدرآمد کریں گے۔

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا کے کئی ممالک، بشمول انڈونیشیا اور آسٹریلیا، کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ آسٹریا کا یہ قانون بچوں کی آن لائن حفاظت کے حوالے سے یورپ میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے