اداکار حمزہ علی عباسی نے اپنی بہن ڈاکٹر فزیلا عباسی کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کے حوالے سے وضاحت جاری کی ہے اور کہا کہ وہ اس کیس میں کسی بھی طرح کے شامل نہیں ہیں۔ انسٹاگرام پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ محبت اور حمایت میں کھڑے ہیں، مگر ان کے قانونی اور پیشہ ورانہ معاملات سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
حمزہ نے مزید کہا کہ وہ اس کیس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے اور نہ ہی اس حوالے سے سوالات کا جواب دیں گے، اور جو بھی ان کے نام کو کیس سے جوڑنے کی کوشش کرے گا، قانونی کارروائی کا سامنا کرے گا۔ انہوں نے اپنی بہن کی ساکھ اور دیانتداری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ادارے انصاف یقینی بنائیں گے۔
ڈاکٹر فزیلا عباسی کی طبی بنیادوں پر قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست اسلام آباد میں خصوصی جج ہمایوں دلاور نے مسترد کر دی، جس میں غیر حاضری اور قانونی ریلیف کے غلط استعمال کا حوالہ دیا گیا۔ جنوری 8 کو درج ایف آئی آر میں ان پر غیر مجاز غیر ملکی کرنسی لین دین، غیر لائسنس شدہ منی سروس آپریشنز اور حوالہ/ہنڈی کے ذریعے غیر قانونی رقوم کی منتقلی کا الزام ہے۔
اس ایف آئی آر میں حمزہ علی عباسی کا نام شامل نہیں، تاہم ایف آئی اے کی تفصیلی رپورٹ میں ان کا نام اور ان کی والدہ نسیم چودھری کا نام ایک مشترکہ اکاؤنٹ ہولڈر کے طور پر درج ہے، مگر صرف ڈاکٹر فزیلا کو ملزم قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فزیلا کے 22 بینک اکاؤنٹس ہیں جن کا مجموعی کریڈٹ ٹرن اوور تقریباً 2.5 ارب روپے ہے، جبکہ ان کی ظاہر شدہ آمدنی 4 لاکھ سے 6 لاکھ روپے کے درمیان تھی۔
مقدمہ ایف ایکس ریگولیشن ایکٹ 1947، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010، پریونشن آف کرپشن ایکٹ 1947 اور پاکستان پینل کوڈ کے متعلقہ سیکشنز کے تحت درج کیا گیا ہے۔ حمزہ علی عباسی کی وضاحت سے یہ واضح ہے کہ وہ کیس میں قانونی طور پر کسی بھی طرح کے ملوث نہیں اور صرف اپنی بہن کی حمایت میں کھڑے ہیں۔