بھارت دوبارہ روس کے ساتھ توانائی تعلقات مضبوط کرے گا

نئی دہلی: بھارت اور روس توانائی تعاون کو مضبوط کر رہے ہیں، جس کے تحت بھارت روسی LNG خریداری دوبارہ شروع کرے گا۔ یہ فیصلہ ایران جنگ کے بعد توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور امریکی پابندیوں کے اثرات کی وجہ سے اہم ہے۔ اس سے بھارت کی توانائی فراہمی مستحکم ہوگی اور 1.4 ارب شہری متاثر ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق، مارچ 19 کو روسی نائب وزیر توانائی پاویل سوروکِن اور بھارتی وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے دہلی میں LNG معاہدے پر زبانی بات چیت کی۔ مذاکرات کا مقصد روس سے خام تیل کی فروخت بڑھانا اور مائع قدرتی گیس کی براہِ راست سپلائی دوبارہ شروع کرنا ہے۔ بھارت پہلے ہی واشنگٹن سے پابندیوں میں ممکنہ چھوٹ کے لیے رابطہ کر چکا ہے۔

بھارت نے جنوری میں امریکی محصولات کو کم کرنے کے لیے روسی خام تیل کی خریداری کم کی تھی، جو صدر ٹرمپ کے لیے ایک مشکل قربانی تھی۔ تاہم، ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد بھارت نے فوری طور پر توانائی درآمدات دوبارہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ روسی توانائی سپلائی بھارت کی خام تیل اور LNG ضروریات کا اہم حصہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ قدم طویل مدتی توانائی سیکیورٹی اور عالمی توانائی منڈی میں استحکام کے لیے اہم ہے۔ روس بھی بھارت کے پاور ٹرانسمیشن اور ہوائی رابطوں میں تعاون بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس پیش رفت سے دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور توانائی میں خودمختاری بڑھے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ بھارت اب روسی مائع پٹرولیم گیس (LPG) بھی خرید رہا ہے، جو کھانا پکانے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور پابندیوں میں شامل نہیں ہے۔ روپے اور روبل میں تجارت کو تیز کرنے کے اقدامات سے لین دین صرف ایک دن میں مکمل ہو سکتا ہے۔ روس اور بھارت کے تعلقات میں اعتماد اور دیرینہ شراکت داری دونوں ممالک کے مفاد میں رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے