کیوٹو، جاپان: جاپانی سائنسدانوں نے انسولین کی نئی گولی تیار کی ہے جو مستقبل میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انجیکشن کی ضرورت ختم کر سکتی ہے۔ یہ گولی علاج کو آسان اور کم تکلیف دہ بنائے گی، اور دہائیوں کی تحقیق کے بعد امید کی کرن ہے۔
انسولین کو گولی کی شکل میں تبدیل کرنے کی کوشش صدیوں سے جاری تھی، مگر انسانی ہاضمہ اس میں رکاوٹ رہا۔ معدے کے اینزائم انسولین کو خون میں پہنچنے سے پہلے توڑ دیتے ہیں، جبکہ آنتیں اسے مؤثر طریقے سے جذب کرنے کا قدرتی نظام فراہم نہیں کرتیں۔
کیوٹو یونیورسٹی کے محققین نے ایک خاص "DNP پیپٹائیڈ” تیار کی ہے جو آنت سے گزر کر خون میں پہنچ سکتی ہے بغیر ٹوٹے۔ یہ طریقہ انسولین کے جسم میں بہتر جذب ہونے کو ممکن بناتا ہے۔
مطالعے میں دو تکنیکیں آزمائی گئیں۔ ایک میں انسولین کو پیپٹائیڈ کے ساتھ ملا دیا گیا اور دوسری میں دونوں کو کیمیائی طور پر جوڑا گیا۔ دونوں طریقوں نے خون میں شوگر کی سطح کو مؤثر انداز میں کم کیا اور بائیو ایویلیبیلٹی 33 سے 41 فیصد تک بہتر ہوئی۔
یہ پیش رفت انسولین گولی کو روزمرہ استعمال کے لیے عملی بنانے میں اہم ہے۔ نتائج جرنل Molecular Pharmaceutics میں شائع ہوئے، اور محققین اب بڑے ماڈلز میں تجربات کر کے انسانی ٹرائل کی تیاری کر رہے ہیں۔