ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حالیہ ایران جنگ بندی کو مرحوم رہنما آیت اللہ خامنہ ای کے خون کا ثمر قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ان کی قربانی اور ایرانی عوام کی بھرپور موجودگی کا نتیجہ ہے۔
صدر پزشکیان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جنگ بندی ایران کے مطلوبہ عمومی اصولوں کے مطابق ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو حکمت عملی اور قومی عزم کی کامیابی قرار دیا۔
“جنگ بندی ہمارے عظیم شہید رہنما خامنہ ای کے خون کا ثمر ہے”، انہوں نے کہا اور عوام کی شمولیت کو اس کامیابی میں کلیدی قرار دیا۔
صدر نے مزید کہا کہ آج سے ایران سفارتکاری اور دفاع کے میدان میں مزید متحد رہے گا۔ یہ اتحاد بین الاقوامی مذاکرات میں ایران کی پوزیشن کو مضبوط کرے گا۔
جنگ بندی کے اعلان کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور صدر پزشکیان نے قریبی رابطہ کیا تاکہ آئندہ مذاکرات کی ہم آہنگی ممکن ہو۔ یہ بات چیت خطے میں طویل مدتی امن کے قیام کے لیے اہم ہوگی۔
صدر پزشکیان نے اسلام آباد وفد کی آمد کی تصدیق کی، جو پاکستان اور امریکہ کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لے گا تاکہ امن کے اقدامات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق عوامی حمایت اور قومی اتحاد کے ساتھ ایران جنگ بندی خطے میں کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اس پیش رفت کو آگے بڑھانے کا موقع فراہم کریں گے۔