تہران: ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ علاقائی ممالک کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی کوششیں خوش آئند ہیں اور اس کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی، بلکہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔
بقائی نے واضح کیا کہ ایران کو دی گئی زیادہ تر تجاویز غیر حقیقی، غیر معقول اور حد سے تجاوز کرنے والی ہیں، اور تمام واقعات کو حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہر جگہ اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔
ترجمان نے متحدہ عرب امارات پر زور دیا کہ وہ ایرانی شہریوں کے ساتھ دور اندیشی سے پیش آئیں اور تمام امور میں تعاون کریں۔ انہوں نے لبنان میں ایران کے سفیر کی موجودگی کی بھی تصدیق کی، کہا کہ وہ بیروت میں اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔
بقائی نے مزید کہا کہ یوکرین تنازع کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے جوڑنا تباہ کن غلط فہمی ہے اور اس سے عالمی صورتحال پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ایران علاقائی استحکام کے لیے ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
خیال رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ثالثی کے لیے مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کا اسلام آباد میں اجلاس ہوا، جس میں خطے میں امن کے لیے ممکنہ اقدامات اور ثالثی کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔