پاکستان نے اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر اسلام آباد مذاکرات 2026 کے لیے غیر ملکی وفود کو خصوصی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کو آسان بنانا ہے۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ اسلام آباد مذاکرات 2026 میں شرکت کرنے والے افراد کو بغیر ویزا بورڈنگ کی اجازت دی جائے گی۔ پاکستان پہنچنے پر انہیں آن ارائیول ویزا جاری کیا جائے گا۔
اسلام آباد مذاکرات 2026 میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت متوقع ہے، جو حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے بات چیت کریں گے۔ پاکستان اس عمل میں ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات 2026 کا انعقاد قومی اہمیت کا حامل ہے۔ تمام اداروں کو مہمانوں کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دارالحکومت میں ایک ہائی سیکیورٹی ریڈ زون قائم کیا گیا ہے، جہاں داخلہ صرف مجاز افراد تک محدود ہوگا۔ اسلام آباد مذاکرات 2026 کے دوران سخت نگرانی اور چیکنگ کا نظام نافذ رہے گا۔
اسلام آباد پولیس نے ٹریفک پلان بھی جاری کیا ہے، جس کے تحت سرینگر ہائی وے اور ایکسپریس وے پر متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ پاکستان اسلام آباد مذاکرات 2026 کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے عالمی امن میں کردار کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
\