اسرائیل کے آرمی چیف ایال زمیر نے فوج کے اندرونی طور پر ٹوٹ جانے کی سنگین وارننگ جاری کر دی ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ “10 لال جھنڈے” اٹھا کر خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ حالات میں فوجی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
ان کے مطابق میدان جنگ میں ریزرو فوجی مزید لڑنے کے قابل نہیں رہے، جس سے آپریشنل صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
ایال زمیر نے واضح کیا کہ اگر ریزرو فوجیوں سے متعلق قوانین میں فوری ترامیم اور اصلاحات نہ کی گئیں تو فوجی ڈھانچہ کمزور ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم نفٹالی بینٹ نے بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تقریباً 20 ہزار فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بغیر مناسب حکمت عملی، وسائل اور افرادی قوت کے جنگ کا آغاز کیا گیا، جو ایک بڑی غلطی ہے۔
اپوزیشن رہنما یائیر لیپڈ نے بھی اس وارننگ کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ 13 سال سے سکیورٹی کابینہ کا حصہ رہے ہیں مگر اتنی سنگین صورتحال پہلے کبھی نہیں دیکھی۔