اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی کابینہ کو لبنان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت دی۔ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے اور پرامن تعلقات قائم کرنے کے لیے اہم ہے۔ مذاکرات کا اثر اسرائیل، لبنان اور پورے خطے پر محسوس ہوگا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق، وزیراعظم نے کہا کہ لبنان کی جانب سے مسلسل براہِ راست بات چیت کی درخواستوں کے پیش نظر فوری اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات جلد شروع کیے جائیں تاکہ خطے میں امن قائم ہو۔
وزیراعظم نے کہا کہ مذاکرات کا مرکز حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور اسرائیل و لبنان کے درمیان پُرامن تعلقات قائم کرنا ہوگا۔ اس سے دونوں ممالک کو سیکیورٹی اور اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔
انہوں نے کابینہ کو ہدایت دی کہ بات چیت براہِ راست کی جائے تاکہ کارروائی مؤثر اور شفاف ہو۔ متعلقہ حکام اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے لیے انتظامات اور پروٹوکول تیار کر رہے ہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے مگر سفارتی کوششیں تیز ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کامیاب مذاکرات سے دشمنی کم ہو سکتی ہے اور تعاون میں اضافہ ہوگا۔
ماہرین نے کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست رابطہ غیر معمولی ہے۔ وزیراعظم کا یہ فیصلہ خطے کی سفارتی حکمت عملی میں اہم تبدیلی اور مستقبل کے لیے مثال ہے۔
ملاقاتوں کے دوران حفاظت اور انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ امید ہے کہ لبنان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات خطے میں استحکام اور پرامن ماحول قائم کریں گے۔