اقصیٰ حملہ: مسلمان ممالک کی جانب سے مشترکہ مذمتی بیان

اقصیٰ حملہ: مسلمان ممالک کی جانب سے مشترکہ مذمتی بیان

پاکستان نے اسرائیلی وزیر تحفظ قومی، ایتامار بن غویر، کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کی سخت مذمت کی۔ وزارت خارجہ نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ واقعہ مسلمانوں کی مذہبی حساسیت اور مسجد کی تقدس پر اثر انداز ہوا۔

وزارت خارجہ نے واقعے کو "قابل مذمت” قرار دیا اور مسجد اقصیٰ کی مذہبی و تاریخی حیثیت کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش مسترد کی۔ پاکستان نے فلسطین کی حقوق اور اقوام متحدہ کے فیصلوں کی حمایت کی تصدیق کی۔

قطر نے بھی اس اقدام کی شدید مذمت کی اور اسے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ قطر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ یروشلم کی مقدس جگہوں کے تحفظ میں کردار ادا کرے۔

ترکی نے واقعے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصیٰ صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے۔ وزارت نے مشرقی یروشلم کی مقدس جگہوں پر عبادت کی آزادی کے لیے تمام رکاوٹیں ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

اردن نے بھی اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے مسجد اقصیٰ کی تقدس پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔ اردن نے اسرائیل کے یروشلم اور اس کی مقدس جگہوں پر دعوے کو مسترد کیا۔

پاکستان، متحدہ عرب امارات، ترکی، مصر، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر نے مسجد اقصیٰ کے دروازے فوری کھولنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پرانے شہر میں مسلمانوں کی عبادت تک رسائی کی مکمل ضمانت مانگی۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کو مسلمانوں کے عبادت کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے۔ عالمی برادری کو فوری اقدامات کے ذریعے مزید خلاف ورزیوں سے روکنے کی ضرورت ہے۔

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے