وفاقی آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت کا کم عمر مسیحی لڑکی کی شادی سے متعلق اہم فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے کم عمر مسیحی لڑکی کی مسلمان لڑکے سے شادی سے متعلق ایک اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں قانونی اور مذہبی پہلوؤں کو واضح کیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اسلامی شریعت کے مطابق مسلمان مرد اہلِ کتاب خواتین سے نکاح کر سکتے ہیں، تاہم چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کم عمری کی شادی پر سزا ہو سکتی ہے لیکن نکاح کو صرف اسی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر صرف فوجداری سزا کا ذکر ہے، نکاح کو کالعدم قرار دینے کی شق شامل نہیں۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ لڑکی نے نکاح سے قبل اسلام قبول کیا تھا اور اس کا باقاعدہ ڈیکلریشن موجود ہے۔

عدالت نے کہا کہ حبسِ بے جا کی درخواست میں عمر کے تعین یا دارالافتاء کی دستاویزات کی مکمل جانچ ممکن نہیں، جبکہ لڑکی نے مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے بغیر کسی دباؤ کے نکاح کیا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ آئینی تشریح کا حتمی اختیار اسی عدالت کے پاس ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان سمیت تمام عدالتیں اس کے فیصلوں کی پابند ہیں۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے آئین یا قانون سے متصادم ہوں تو آئینی عدالت ان نظیروں کی پابند نہیں ہوگی۔

یہ کیس لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی کا تھا، جس نے اسلام قبول کر کے شہریار نامی نوجوان سے شادی کی تھی، جبکہ والد کے بیانات میں عمر کے حوالے سے تضاد بھی سامنے آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے