ایوان صدر میں ہونے والے اہم اجلاس میں پاکستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں ملک کو درپیش اقتصادی، توانائی اور سکیورٹی چیلنجز کا جائزہ لیا گیا، خاص طور پر عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے اثرات پر غور کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری کی صدارت میں اجلاس میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف، وفاقی وزرا، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر، قومی سلامتی کے مشیر اور سینئر حکام شریک تھے۔ اجلاس کا مقصد کمزور طبقات کو ریلیف فراہم کرنا اور مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا تھا۔
اجلاس میں ملک گیر اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ ابتدائی تجویز یہ تھی کہ ہفتہ اور اتوار کو لاک ڈاؤن سے تیل کی کھپت کم کی جائے۔ صوبوں نے اعتراض کیا کہ اس سے پیداواری سرگرمیاں متاثر ہوں گی اور برآمدات پر منفی اثر پڑے گا۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ عالمی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی تجاویز مسترد کر دی گئی ہیں، اور سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری کے ذریعے وسائل کی بہتر تقسیم کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ملک میں ایندھن کی کھپت میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وزارت اطلاعات کو عوامی آگاہی مہمات چلانے کی ہدایت دی گئی تاکہ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ اور شیئرڈ موبیلٹی کے استعمال کو ترجیح دیں۔
اجلاس میں خطے کی موجودہ صورتحال کے پاکستان کی معیشت اور فوڈ سکیورٹی پر اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں نے ضروری اشیاء کی دستیابی اور عوامی مشکلات کم کرنے کے اقدامات سے آگاہ کیا، جس سے قومی ردعمل کو مربوط بنایا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت کی سفارتی کوششیں ترکی، سعودی عرب، مصر اور تنازع میں شامل دیگر ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ جاری ہیں۔ اجلاس میں یہ واضح کیا گیا کہ کفایت شعاری سے بچائے گئے فنڈز عوامی ریلیف کے لیے استعمال ہو رہے ہیں اور ملک میں ایندھن کی فراہمی بلا رکاوٹ برقرار ہے۔