پاکستان خوراک کا ضیاع ایک سنگین قومی مسئلہ بن گیا ہے، اور ملک دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ خوراک ضائع ہوتی ہے۔ ہر سال فی فرد اوسطاً 120 کلوگرام سے زائد خوراک ضائع ہوتی ہے، جو صارفین کے رویے، اسٹوریج نظام اور سپلائی چین کی کمزوریوں کی عکاسی کرتی ہے۔
اس کے باوجود، لاکھوں پاکستانی خوراک کی کمی کا شکار ہیں اور غذائیت بخش خوراک تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ اس تضاد سے واضح ہوتا ہے کہ وسائل کی تقسیم اور عوام میں شعور بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان خوراک کا ضیاع کئی وجوہات کی وجہ سے بڑھ رہا ہے، جن میں ناکافی اسٹوریج سہولیات، نقل و حمل کے دوران خراب ہینڈلنگ، ضرورت سے زیادہ خریداری اور صارفین میں شعور کی کمی شامل ہیں۔ شہری علاقوں میں گھروں، ریستورانوں اور تقریبات میں ضائع ہونے والی خوراک بھی مسئلے کو بڑھا دیتی ہے۔
پاکستان خوراک کا ضیاع کم کرنے کے لیے حکومت، کاروباری اداروں اور شہریوں کے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔ عوامی آگاہی مہمات لوگوں کو ضیاع کم کرنے کی تربیت دے سکتی ہیں، جبکہ بہتر کولڈ اسٹوریج اور ٹرانسپورٹ کے نظام خوراک کی بربادی کو روک سکتے ہیں۔
پالیسی سازوں کا کردار بھی اہم ہے۔ قوانین نافذ کرنا، خوراک کی بحالی کے پروگراموں کی حوصلہ افزائی اور پائیدار کاروباری اقدامات کو سپورٹ کرنا ضیاع کو کم کرنے اور کمزور طبقے کے لیے خوراک کی دستیابی بڑھانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
خوراک کے ضیاع کو کم کرنا صرف وسائل کی بچت نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹ کر پاکستان قیمتی وسائل بچا سکتا ہے، ماحولیاتی اثرات کم کر سکتا ہے اور خوراک کی مساوی تقسیم کو یقینی بنا سکتا ہے۔
یہ بڑھتا ہوا بحران تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے موقع ہے کہ وہ اپنے استعمال کے طریقے دوبارہ سوچیں۔ مشترکہ اقدامات سے پاکستان ایک پائیدار، مؤثر اور مساوی خوراکی نظام قائم کر سکتا ہے جو لوگوں اور ماحول دونوں کے لیے فائدہ مند ہو۔