پاکستان نے اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات سے قبل اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، جہاں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم ملاقات میں امن کوششوں کا جائزہ لیا۔ یہ پیش رفت پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی میں کمی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ پاکستان کی کوششوں نے اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وزیراعظم کو ثالثی عمل کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ اس دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات مثبت اور نتیجہ خیز ہونے چاہئیں۔
دونوں رہنماؤں نے اس اہم مرحلے پر امن برقرار رکھنے اور جنگ بندی کی پاسداری کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کامیاب ہو سکیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ فریقین کے تعاون کو سراہا اور پاکستان کے عزم کو دہرایا کہ وہ پرامن حل کے لیے مکمل حمایت فراہم کرے گا۔ انہوں نے وفود کو ہر ممکن سہولت دینے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
یہ مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے، جن میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود شرکت کریں گے۔ ایران اور امریکہ کی نمائندگی اہم سیاسی شخصیات کریں گی۔
مذاکرات کے پیش نظر اسلام آباد کے ریڈ زون میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ دو روزہ تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ فوج، رینجرز اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔