پنجاب کے نئے مالی سال 2026-27 کے لیے ترقیاتی بجٹ کا ابتدائی حجم 1450 ارب روپے طے کر لیا گیا ہے، جس میں 1824 منصوبوں کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔ پی اینڈ ڈی بورڈ نے نئے مالی سال کے اے ڈی پی کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا ہے، جس میں ترجیحی منصوبوں کے لیے 580 سے 780 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کے ترجیحی منصوبوں کے لیے 200 ارب روپے تک بلاک ایلوکیشن تجویز کی گئی ہے، جس میں ٹرانسپورٹ سیکٹر سب سے بڑا حصہ رکھتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کے لیے 303 ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ سڑکوں کی بحالی اور نئے انفراسٹرکچر کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
لاہور میں صاف پانی کے منصوبے اور مثالی گاؤں پروگرام کو بھی بجٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مثالی گاؤں کے لیے 30 ارب روپے، سڑکیں بحالی پروگرام کے لیے 42 ارب روپے اور صاف پانی کے منصوبے کے لیے 25 ارب روپے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے لیے 7 ارب روپے جبکہ پنجاب ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 200 سے 250 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر ترقیاتی منصوبوں کی لاگت 2347 ارب روپے تک پہنچتی ہے، جس میں صوبے کے تمام اہم شعبے شامل ہیں۔
پی اینڈ ڈی بورڈ کی یہ ابتدائی تجاویز ابھی حتمی بجٹ کی شکل اختیار کریں گی، جس کے بعد پنجاب اسمبلی میں پیش کر کے منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔