تہران: ایران نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کے محفوظ گزرنے کے لیے نیا نظام تیار کیا ہے۔ اس کا مقصد امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد بھی شپنگ برقرار رکھنا ہے۔ جہاز گذرنے کے لیے ایران کو 20 لاکھ ڈالر تک ادا کر رہے ہیں، جس سے عالمی تجارتی نقل و حمل متاثر ہو رہی ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق مارچ میں آبنائے ہرمز سے صرف 116 جہاز گذرے، جبکہ جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے۔ زیادہ تر جہاز چین، بھارت اور خلیجی ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ بعض جہاز ’ڈارک فلیٹ‘ کے تھے، جن پر مغربی پابندیاں عائد ہیں۔
جہاز گذرنے کی منظوری کے عمل میں متعلقہ ممالک کے سفارت خانے حکومت سے حکومت مذاکرات کرتے ہیں۔ اس کے بعد جہاز کو مخصوص کوڈ دیا جاتا ہے، جو VHF 16 پر نشر کیا جاتا ہے۔ ایرانی حکام جہاز کے کاغذات، کارگو کی منزل اور عملے کی قومیت کی جانچ کرتے ہیں۔
جہازوں نے روایتی شپنگ لینز کی بجائے ایرانی سمندری حدود استعمال کیں۔ بعض جہاز پاکستانی پرچم استعمال کر کے گزرے، جس کا مقصد بین الاقوامی تنازعات سے بچنا تھا۔ یہ اقدام امریکی پالیسی کے لیے بھی ایک علامتی پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
ایران کی پابندیوں اور ادائیگی کے نظام کے باوجود بھارتی اور چینی کمپنیوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ امریکی محکمہ خزانہ کے سابق عہدیدار کے مطابق ایران نے خفیہ ادائیگی کے نیٹ ورک قائم کیے ہیں۔ یہ نظام عالمی توانائی کی مارکیٹ اور شپنگ کو براہ راست متاثر کر رہا ہے۔