سری لنکا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ

سری لنکا میں بجلی کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ

سری لنکا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے تحت نرخوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوگا۔ یہ فیصلہ عالمی توانائی بحران اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث بڑھتی ہوئی لاگت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ناگزیر ہو چکا تھا۔

پبلک یوٹیلیٹیز کمیشن کے مطابق سری لنکا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کا حساب ان عالمی قیمتوں پر کیا گیا ہے جو حالیہ تنازع سے پہلے موجود تھیں۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات برقرار رہے تو اپریل میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

درمیانے درجے کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 61 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 84 روپے ہو جائے گی، جو تقریباً 39 فیصد اضافہ ہے۔ کم استعمال کرنے والے صارفین، جو ماہانہ 30 یونٹس سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے اضافہ تقریباً 11 فیصد ہوگا۔

سری لنکا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کی بڑی وجہ ملک کا درآمدی ایندھن پر انحصار ہے۔ سری لنکا اپنی تمام تیل کی ضروریات بیرون ملک سے پوری کرتا ہے اور بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئلہ بھی درآمد کرتا ہے۔ اس وجہ سے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔

حالیہ دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں بھی تین بار اضافہ کیا جا چکا ہے۔ حکومت نے توانائی بچانے کے لیے چار روزہ ورکنگ ہفتہ متعارف کروایا ہے۔ اس کے علاوہ نجی اداروں کو بھی گھر سے کام کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس سے درآمدی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال طویل ہوئی تو 2022 کے معاشی بحران کے بعد بحالی کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ سری لنکا کو آئی ایم ایف سے مدد ملی ہے، لیکن توانائی کی بڑھتی قیمتیں اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔

1 comment on “سری لنکا میں بجلی کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے