ٹرمپ نیتن یاہو کال مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم موڑ بن کر سامنے آئی ہے، جس کے فوراً بعد اسرائیل نے لبنان کے ساتھ براہ راست جنگ بندی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان یہ گفتگو جمعرات کو ہوئی۔ ذرائع نے اس کال کو غیر معمولی طور پر سخت قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نیتن یاہو کال کے بعد اسرائیل نے فوری طور پر اعلان کیا کہ وہ لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرے گا۔ یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس گفتگو نے اسرائیل کی پالیسی پر گہرا اثر ڈالا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کو خدشہ تھا کہ اگر اسرائیل نے خود پیش قدمی نہ کی تو امریکہ یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کر سکتا ہے۔ یہی دباؤ اس فیصلے کا سبب بنا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران کے ساتھ بھی جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔ امریکہ مختلف محاذوں پر کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں کم کرے۔ حالیہ حملوں میں بھاری جانی نقصان کے بعد عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی تھی۔
مجموعی طور پر ٹرمپ نیتن یاہو کال ظاہر کرتی ہے کہ اعلیٰ سطحی سفارتکاری کس طرح حالات کو فوری طور پر بدل سکتی ہے اور امن کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔