یوکرین ایرانی ڈرونز مشرق وسطیٰ کے معاملے پر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی فوجی ماہرین نے خطے کے کئی ممالک میں ایرانی ڈرونز کو مار گرانے میں مدد فراہم کی ہے۔
غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ یوکرینی ماہرین کو متعدد مشرق وسطیٰ ممالک میں تعینات کیا گیا جہاں انہوں نے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا اور ایرانی ڈرونز کے حملوں کو ناکام بنایا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ مشن صرف تربیتی نہیں تھا بلکہ عملی مدد بھی فراہم کی گئی، جس کے ذریعے مختلف ممالک میں دفاعی صلاحیت بہتر بنائی گئی، جو یوکرین ایرانی ڈرونز مشرق وسطیٰ صورتحال کا حصہ ہے۔
زیلنسکی کے مطابق ڈرونز کو ایک سے زیادہ ممالک میں مار گرایا گیا، تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد جوابی ڈرون حملے شروع ہوئے، جس سے یوکرین ایرانی ڈرونز مشرق وسطیٰ صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔
یوکرینی صدر نے یہ بھی کہا کہ بعض علاقوں میں یوکرینی یونٹس اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے، چاہے ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی بھی ہو جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کو اس تعاون کے بدلے مختلف سہولتیں مل سکتی ہیں جن میں مالی معاہدے، تیل کی فراہمی اور دفاعی نظام کے لیے انٹرسیپٹرز شامل ہو سکتے ہیں، جو یوکرین ایرانی ڈرونز مشرق وسطیٰ تعاون کو ظاہر کرتا ہے۔