لبنان غذائی بحران کے حوالے سے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جاری جنگی صورتحال کے باعث ملک میں خوراک کی فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق لبنان میں صورتحال صرف نقل مکانی تک محدود نہیں رہی بلکہ اب لبنان غذائی بحران تیزی سے ایک بڑے انسانی مسئلے میں تبدیل ہو رہا ہے۔
ڈبلیو ایف پی کی کنٹری ڈائریکٹر ایلیسن اومن نے کہا کہ مہنگائی اور بے گھر افراد کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث خوراک کی دستیابی مشکل ہوتی جا رہی ہے، جس سے لبنان غذائی بحران مزید سنگین ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سبزیوں کی قیمتوں میں 20 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جبکہ روٹی کی قیمتیں 17 فیصد تک بڑھ گئی ہیں، جس نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
جنوبی لبنان میں صورتحال خاص طور پر خراب ہے جہاں 80 فیصد سے زائد مارکیٹیں غیر فعال ہو چکی ہیں، جبکہ بیروت میں بھی سپلائی چین متاثر ہونے سے لبنان غذائی بحران بڑھ رہا ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے مطابق امدادی سامان کی ترسیل بھی مشکل ہو رہی ہے اور کئی علاقوں میں بنیادی خوراک کا ذخیرہ ایک ہفتے سے بھی کم رہ گیا ہے۔
ادارے کے مطابق لبنان میں تقریباً 9 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اگر صورتحال برقرار رہی تو یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے لبنان غذائی بحران ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔