چین میں ایک بڑا صنعتی سانحہ پیش آیا ہے جہاں چین کوئلہ کان دھماکہ شانشی 2026 کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 90 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ واقعہ صوبہ شانشی کے علاقے قن یوان کی لوشن یو کوئلے کی کان میں پیش آیا۔
یہ دھماکہ جمعہ کی رات اس وقت ہوا جب تقریباً 247 مزدور زیر زمین کام کر رہے تھے۔ واقعے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
چین کوئلہ کان دھماکہ شانشی 2026 کو حالیہ برسوں کے سب سے بڑے صنعتی حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے ایک بار پھر کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے حکام کو ہدایت دی کہ زخمیوں کے علاج اور ریسکیو آپریشن میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔ انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم بھی دیا۔
وزیراعظم لی چیانگ نے بھی ہدایت جاری کی کہ عوام کو بروقت اور درست معلومات فراہم کی جائیں اور حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے۔
مقامی حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ دھماکے کی اصل وجہ تاحال تحقیقات کے مرحلے میں ہے۔ ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی گئی تھی تاہم بعد میں اسے بڑھا دیا گیا۔
چین کوئلہ کان دھماکہ شانشی 2026 اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ حفاظتی اقدامات کے باوجود صنعتی حادثات اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔