پاکستان ترسیلات زر نے مئی 2026 میں نئی تاریخ رقم کردی، جب بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 4.3 ارب ڈالر وطن بھیجے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے مطابق یہ ملک کی تاریخ میں کسی ایک ماہ میں موصول ہونے والی سب سے زیادہ ترسیلات زر ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مئی میں موصول ہونے والی ترسیلات زر اپریل 2026 کے مقابلے میں 20.2 فیصد زیادہ رہیں، جبکہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں ان میں 15.4 فیصد اضافہ ہوا۔ مرکزی بینک نے اس پیش رفت کو معیشت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا۔
وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اس کامیابی کو اہم معاشی سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریکارڈ ترسیلات زر بیرونِ ملک پاکستانیوں کے اعتماد اور ملکی معیشت سے ان کی وابستگی کا واضح ثبوت ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان ترسیلات زر میں یہ اضافہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے، روپے کو سہارا دینے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ترسیلات زر پاکستان کے لیے ڈالر کی سب سے بڑی آمدنی کے ذرائع میں شامل ہیں۔
In May 2026, workers’ remittances recorded an inflow of US$ 4.3 billion showing 20.2 percent increase on m/m and 15.4 percent increase on y/y basis.https://t.co/7PckFCqSff
#SBPRemittances pic.twitter.com/Zv4DhsPCYO— SBP (@StateBank_Pak) June 10, 2026
رواں مالی سال کے دوران ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکومتی اندازوں کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو مالی سال 2026 کے اختتام تک مجموعی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتی ہیں، جو ایک نیا ریکارڈ ہوگا۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی مستقبل میں ترسیلات زر کو متاثر کرسکتی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان ترسیلات زر کے بڑے ذرائع ہیں، اس لیے خطے کی صورتحال کا براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
ترسیلات زر پاکستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں اور ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 9 سے 10 فیصد حصہ بنتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی میں آنے والی ریکارڈ رقم نے بڑھتی تیل کی قیمتوں اور بیرونی مالی دباؤ کے دوران معیشت کو اہم سہارا فراہم کیا ہے۔