عمران خان اور بشریٰ بی بی

190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ درخواست میں عدالتِ عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ سزا معطل کرتے ہوئے دونوں کو رہائی دی جائے، کیونکہ ہائیکورٹ کا فیصلہ قانونی اور آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطلی کی اپیل کو قابلِ سماعت قرار دینے کے باوجود مقدمے کے اہم قانونی نکات کا مکمل جائزہ نہیں لیا۔ درخواست گزاروں کے مطابق شواہد کا ابتدائی جائزہ لیے بغیر سزا معطلی کی درخواست مسترد کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دورانِ قید انہیں بینائی کا مسئلہ لاحق ہوا اور علاج کے لیے جیل سے باہر منتقل کرنا پڑا۔ درخواست کے مطابق بشریٰ بی بی بھی صحت کے مختلف مسائل کا سامنا کر رہی ہیں، اس کے باوجود دونوں کو ریلیف نہ دینا ناانصافی ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طویل عرصے تک تنہائی میں قید رکھنے کے باعث دونوں شدید ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مشکلات سے دوچار ہوئے۔ مزید مؤقف اپنایا گیا کہ سزا معطلی کی درخواست کو بار بار مؤخر کیا گیا، جس سے انصاف کی فراہمی میں غیر ضروری تاخیر پیدا ہوئی، حالانکہ ٹرائل کے دوران ضمانت بھی مل چکی تھی۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ سزا معطلی پر فیصلہ کرتے وقت عدالت مقدمے کے بنیادی نکات اور دستیاب شواہد کا ابتدائی جائزہ لینے کی مجاز ہوتی ہے۔ ان کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے مسلسل التوا لینے کے باعث اپیل کی سماعت غیر ضروری طور پر طول پکڑتی رہی۔

درخواست میں گرفتاری کے طریقہ کار کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پہلے بھی ایک اعلیٰ عدالت گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے کر رہائی کا حکم دے چکی ہے۔ مزید دعویٰ کیا گیا کہ احتسابی کارروائی سیاسی بنیادوں پر کی گئی، جبکہ نیب قوانین میں حالیہ ترامیم کے باوجود سزا معطلی کی اپیل سپریم کورٹ میں ہی قابلِ سماعت ہے۔

آخر میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کی جائے اور انہیں فوری طور پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ اب اس مقدمے کی آئندہ کارروائی سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت پر منحصر ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین