آذربائیجان اسرائیل آرمینیائی نسل کشی کے معاملے پر دونوں اتحادی ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ آذربائیجان نے اسرائیل کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی ہے جس میں پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو باضابطہ طور پر نسل کشی قرار دیا گیا۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ انتہائی تشویشناک ہے اور یہ خطے میں مفاہمت اور باہمی اعتماد کے فروغ کے بجائے اختلافات کو مزید گہرا کرے گا۔ وزارت نے اسرائیلی حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
اسرائیل نے اتوار کو آرمینیائی نسل کشی کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جو اس کی سابقہ پالیسی سے ایک اہم تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔ آرمینیا کئی دہائیوں سے عالمی برادری سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ 1915 سے 1917 کے درمیان سلطنت عثمانیہ میں تقریباً 15 لاکھ آرمینیائی باشندوں کے قتل عام کو نسل کشی تسلیم کیا جائے۔
ترکی اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیائیوں اور ترکوں، دونوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ انقرہ ان واقعات کو نسل کشی قرار دینے سے انکار کرتا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بھی مختلف بتاتا ہے۔
آذربائیجان اسرائیل آرمینیائی نسل کشی کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ آذربائیجان کے اسرائیل کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون کے مضبوط تعلقات ہیں، جبکہ ترکی اس کا قریبی ترین علاقائی اتحادی ہے۔ اسی وجہ سے اسرائیل کے فیصلے کو باکو میں تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
امریکا، فرانس، جرمنی سمیت دو درجن سے زائد ممالک آرمینیائی نسل کشی کو باضابطہ طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔ ماضی میں اسرائیلی حکومتیں ترکی کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کے لیے ایسے فیصلے سے گریز کرتی رہی تھیں، تاہم حالیہ برسوں میں علاقائی صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
یہ سفارتی تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آذربائیجان اور آرمینیا قرہ باغ تنازع کے بعد جامع امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ماہرین کے مطابق آذربائیجان اسرائیل آرمینیائی نسل کشی کا یہ نیا اختلاف خطے کی سفارت کاری پر اثر ڈال سکتا ہے، اگرچہ دونوں جنوبی قفقازی ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔