آبنائے ہرمز بحری آمدورفت دو تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کے بعد معمول سے کم رفتار پر جاری ہے، جس سے دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اگرچہ کئی جہازوں نے اپنی منزل کی جانب سفر جاری رکھا، تاہم شپنگ کمپنیوں اور انشورنس اداروں کا اعتماد ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکا۔
بحری نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق سنگاپور میں رجسٹرڈ کنٹینر جہاز ایور لولی کو 25 جون کو معمولی نقصان پہنچا، جبکہ پاناما کے پرچم بردار آئل ٹینکر ایم ٹی کیکو 27 جون کو حملے کی زد میں آیا۔ ان واقعات کے باوجود کئی تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے رہے۔
سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی نے تصدیق کی کہ ایور لولی کے برج کو نامعلوم پروجیکٹائل سے معمولی نقصان پہنچا، تاہم جہاز نے محفوظ طریقے سے اپنا سفر مکمل کیا اور تمام 21 عملہ محفوظ رہا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) نے دعویٰ کیا کہ ایم ٹی کیکو کو آبنائے ہرمز کے قریب ایک یک طرفہ حملہ آور ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، جب وہ 20 لاکھ سے زائد بیرل خام تیل لے جا رہا تھا۔ امریکی فوج نے اس کے بعد ایرانی اہداف پر جوابی کارروائی کرنے کا بھی اعلان کیا۔
حملوں کے باوجود آبنائے ہرمز بحری آمدورفت مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 27 جون کو مجموعی طور پر 40 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں 24 آنے والے اور 16 جانے والے جہاز شامل تھے۔ کئی بڑے خام تیل بردار جہاز خلیج فارس میں داخل ہوئے جبکہ بھرے ہوئے آئل ٹینکر عالمی منڈیوں کی جانب روانہ ہوئے۔
جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے تازہ حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں سمندری خطرے کی سطح "سبسٹینشل” قرار دیتے ہوئے بارودی سرنگوں اور بحری سرگرمیوں سے متعلق خبردار کیا ہے۔ اسی وجہ سے بعض شپنگ کمپنیاں سفر میں تاخیر کر رہی ہیں جبکہ دیگر جہاز مقررہ بحری راستوں سے اپنی نقل و حرکت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز بحری آمدورفت عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے خام تیل، مائع قدرتی گیس اور دیگر توانائی مصنوعات دنیا بھر تک پہنچتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق حالیہ حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ اگرچہ بحری ٹریفک جزوی طور پر بحال ہو چکی ہے، لیکن خطے میں سکیورٹی خدشات اب بھی عالمی تجارت اور توانائی کی رسد پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔