پی ایس ایکس آج پیر کے روز اتار چڑھاؤ کا شکار رہی، جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس ابتدائی اضافے کے باوجود دوپہر تک 300 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور امریکا۔ایران جنگ بندی سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
مارکیٹ کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای-100 انڈیکس میں 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم فروخت کا دباؤ بڑھنے سے یہ تمام gains ختم ہوگئیں اور مارکیٹ منفی زون میں چلی گئی۔
دوپہر تک پی ایس ایکس آج 179,257.01 پوائنٹس پر آ گئی، جو 314.25 پوائنٹس یا 0.19 فیصد کی کمی ظاہر کرتی ہے۔ کاروبار کے دوران انڈیکس 180,272.01 پوائنٹس کی بلند ترین جبکہ 179,158.98 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک پہنچا۔ اس دوران 172.56 ملین سے زائد حصص کا کاروبار ہوا، جبکہ مجموعی مالیت 17.77 ارب روپے رہی۔
اگرچہ مجموعی مارکیٹ دباؤ کا شکار رہی، تاہم سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری سیکٹر میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ اس کے باوجود بڑے حصص میں فروخت کے باعث مارکیٹ منفی رہی۔
سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جہاں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے مستقبل سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔ اسی دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھی مارکیٹ کے ماحول کو محتاط بنا دیا۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں عالمی سیاسی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں اور معاشی اشاریوں کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کی سمت کا تعین ہوگا۔ سرمایہ کار فی الحال محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
پی ایس ایکس آج کی کارکردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ بعض شعبوں میں خریداری موجود ہے، لیکن بیرونی عوامل سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر نمایاں اثر ڈال رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی حالات میں استحکام آنے کے بعد مارکیٹ میں بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔