ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران نے کبھی بھی اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششیں تہران کے لیے بہت اہم ہیں۔
یہ بیان واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے امریکی حکام سے اسلام آباد میں ملاقات کرنے سے باضابطہ انکار کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے اس کی وجوہات امریکی مطالبات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے بتائی۔
عراقچی نے سوشل میڈیا پر یہ وضاحت کرتے ہوئے ایرانی عوام کی پاکستان سے محبت کی ویڈیوز شیئر کیں اور واضح کیا کہ ایران مذاکرات میں شرکت کے لیے تیار ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششوں کو سراہا جاتا ہے اور بعض عالمی میڈیا رپورٹس نے صورتحال کو غلط پیش کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ترکی اور مصر اب بھی مذاکرات کو بحال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور متبادل مقامات جیسے قطر کا دارالحکومت دوحہ یا ترکی کا شہر استنبول زیرِ غور ہیں۔ تعطل ختم کرنے کے لیے نئی تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
عراقچی نے زور دیا کہ ایران کی شرائط جنگ کا جامع اور دائمی خاتمہ ہیں اور کوئی بھی معاہدہ وقتی امن کے بجائے پائیدار امن کو یقینی بنائے۔
اگرچہ خطے میں کشیدگی جاری ہے، ایران پاکستان کی ثالثی کے ذریعے مذاکرات میں شامل ہونے کی تیاری کا اظہار کر رہا ہے۔ وزیر خارجہ کی وضاحت غلط فہمیوں کو دور کرنے اور خطے میں تعمیری سفارت کاری کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ہے۔