ایران جوہری ہتھیار معاہدہ

ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کر دی

ایران آبنائے ہرمز تجویز کو امریکی صدر ٹرمپ نے مسترد کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر کشیدگی برقرار ہے۔ اس تجویز کا مقصد اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنا تھا۔

ایران نے اپنی تجویز میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور دونوں جانب سے پابندیاں ختم کرنے کی بات کی تھی۔ اس کے بدلے جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔

یہ تنازعہ پہلے ہی عالمی توانائی کی فراہمی میں بڑی رکاوٹ پیدا کر چکا ہے۔ ایران گزشتہ دو ماہ سے خلیج میں زیادہ تر جہاز رانی کو محدود کیے ہوئے ہے جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

ٹرمپ نے ایران کی اس تجویز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایسے مطالبات کر رہا ہے جو قابل قبول نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہیے۔

دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ حکام کے مطابق ایران آبنائے ہرمز تجویز کو جوہری مذاکرات سے الگ کرنا اعتماد سازی میں مدد دے سکتا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق اس منصوبے میں یہ ضمانت بھی شامل ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مزید حملے نہیں کریں گے۔ اس کے بدلے ایران بحری راستہ کھول دے گا اور امریکہ پابندیاں ختم کرے گا۔

تاحال کوئی معاہدہ طے نہیں پایا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایران آبنائے ہرمز تجویز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی گہرے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین