لاہور ہائیکورٹ نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی پراپرٹی سے متعلق تمام مقدمات اب اسپیشل کورٹس میں سنے جائیں گے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اسپیشل کورٹس کی جانب سے اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات نہ سننے کے اعتراض کو کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ قانون کی روح کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کے جائیدادی تنازعات کیلئے خصوصی عدالتیں ہی مجاز فورم ہیں۔
عدالت نے وضاحت کی کہ اسپیشل کورٹ کا اختیار صرف قبضہ یا ملکیت کے تنازعات تک محدود نہیں بلکہ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد سے متعلق ہر نوعیت کے مقدمات ان عدالتوں میں سنے جائیں گے۔
فیصلے کے مطابق وراثت، انتقال، پاور آف اٹارنی، منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد سے متعلق کیسز بھی اسپیشل کورٹ کے دائرہ اختیار میں آئیں گے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اوورسیز پراپرٹی ایکٹ کا بنیادی مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
عدالت نے کہا کہ ماضی میں سول کورٹس اور اسپیشل کورٹس نے قانون کی غلط تشریح کرتے ہوئے صرف بعض مقدمات ہی منتقل کیے، جس سے قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ مقدمات کو مختلف عدالتوں کے درمیان “پنگ پونگ” نہیں بنایا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ اگر مقدمے کے دونوں فریقین میں سے ایک بھی اوورسیز پاکستانی ہو تو کیس اسپیشل کورٹ ہی سنے گی۔ سول کورٹس سے منتقل ہونے والے مقدمات کو وہیں سے آگے چلایا جائے گا جہاں تک کارروائی مکمل ہو چکی ہوگی۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے مقدمات دوبارہ نئے سرے سے دائر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی کیونکہ اسپیشل کورٹ ان مقدمات کیلئے خصوصی اور خودمختار فورم کی حیثیت رکھتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے تمام ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے رجسٹرار کو حکم دیا ہے کہ فیصلے کی نقول تمام متعلقہ عدالتوں کو ارسال کی جائیں۔