
ایران کی امریکہ کو سخت ردعمل کی دھمکی، کشیدگی میں اضافہ
ایران امریکہ کشیدگی 2026 میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جب تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملے کیے تو وہ “طویل اور دردناک جوابی کارروائی” کرے

ایران امریکہ کشیدگی 2026 میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جب تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملے کیے تو وہ “طویل اور دردناک جوابی کارروائی” کرے

اوڈیسا ڈرون حملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے جب روسی افواج نے یوکرین کے جنوبی شہر پر رات کے وقت حملے کیے، جس کے نتیجے میں کم

آبنائے ہرمز اتحاد کے لیے امریکہ نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے جس کا مقصد اہم بحری راستوں میں آمدورفت کو محفوظ بنانا ہے۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں

کوہِ نور ہیرا واپسی کا معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب Zohran Mamdani نے برطانیہ کے بادشاہ سے اس تاریخی ہیرا واپس کرنے کی

اوپیک پلس امارات کے اخراج کے بعد بھی مستحکم رہے گا، روس کے نائب وزیر اعظم Alexander Novak نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ ان کے بیان نے عالمی

چین کے تجارتی قوانین نے اہم سربراہی ملاقات سے پہلے نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ ان اقدامات نے عالمی سطح پر کام کرنے والی کمپنیوں اور خاص طور پر

ایران پر حملوں کا منصوبہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف مختصر اور شدید نوعیت کے فوجی

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور سویڈن کے وزیراعظم الف کرسٹرسن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں مشرق وسطیٰ کشیدگی اور خطے کی صورتحال

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس بھی اس بات کے حامی ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی

اسرائیل نے جاری اسرائیل لبنان مذاکرات کے لیے دو ہفتوں کی سخت ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اس مدت میں معاہدہ نہ ہوا