ایران امریکہ کشیدگی 2026 میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جب تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملے کیے تو وہ “طویل اور دردناک جوابی کارروائی” کرے گا۔ یہ بیان جاری کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق کسی بھی نئے امریکی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اس بیان نے پہلے سے جاری غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایران امریکہ کشیدگی 2026 کے باعث عالمی توانائی منڈیاں بھی متاثر ہوئی ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے۔ یہ راستہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ممکنہ فوجی کارروائیوں پر غور کر رہے ہیں تاکہ ایران کو مذاکرات پر مجبور کیا جا سکے۔ اس صورتحال نے عالمی تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ معمولی حملہ بھی بڑے اور طویل ردعمل کا باعث بنے گا۔ ان کے مطابق خطے میں موجود امریکی اڈے اور بحری جہاز نشانے پر ہوں گے۔
ایران امریکہ کشیدگی 2026 پر اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ طویل بحران عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
مختلف سفارتی کوششوں کے باوجود صورتحال کشیدہ ہے اور ماہرین کے مطابق اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران امریکہ کشیدگی 2026 عالمی امن اور توانائی کے نظام کے لیے خطرہ بنی رہے گی۔