عالمی تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سپلائی سے متعلق خدشات ہیں۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اس اضافے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش عالمی تیل کی قیمتوں پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والا عنصر بن چکی ہے۔ یہ اہم سمندری راستہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی منڈی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھی مارکیٹ میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ممکنہ جنگ کے خدشات نے سپلائی میں کمی کے امکانات کو بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں نے تیزی سے ردعمل دیا اور قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد یہ 111.43 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 2.7 فیصد اضافے کے بعد 114.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ کسی بھی نئی پیش رفت سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔