پاکستان کی گوادر بندرگاہ پر بحری سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، جہاں ایک اور بین الاقوامی مال بردار جہاز کامیابی کے ساتھ لنگر انداز ہوگیا۔ حکومتی حکام کے مطابق اس پیش رفت سے گوادر بندرگاہ کی عالمی تجارتی اہمیت مزید بڑھ رہی ہے۔
وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے پیر کے روز اعلان کیا کہ مال بردار جہاز “ایم وی یوان ہانگ ویئے” گوادر بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق جہاز کی کامیاب آمد بندرگاہ پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد کا ثبوت ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق جہاز پر تقریباً 34 ہزار ٹن بلک کارگو جبکہ 20 ہزار ٹن دیگر سامان موجود ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ابوظبی اور کویت کے لیے آنے والا سامان گوادر بندرگاہ پر اتارا جائے گا، جس سے علاقائی تجارتی سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کی بڑی جہاز رانی کمپنیاں اب گوادر بندرگاہ کو محفوظ اور مؤثر تجارتی مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ ان کے بقول گوادر بندرگاہ مستقبل میں خطے کی اہم تجارتی راہداری بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے عالمی راہداری تجارت بڑھانے کے لیے گوادر بندرگاہ پر مختلف محصولات میں نمایاں کمی کا اعلان بھی کیا ہے۔ حکام کے مطابق برتھنگ فیس میں 25 فیصد تک کمی کردی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی جہاز گوادر کا رخ کریں۔
اسی طرح ٹرانس شپمنٹ کنٹینرز پر عائد چارجز میں 40 فیصد جبکہ کنٹینر کارگو پر بندرگاہی محصولات میں 31 فیصد تک کمی کردی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے بندرگاہی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور عالمی تجارت کو سہولت ملے گی۔
اعلان کے مطابق گوادر بندرگاہ پر جنرل کارگو کو ایک ماہ تک بغیر اضافی چارجز کے رکھنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق نئی مراعات سے گوادر بندرگاہ خطے میں تجارت اور بحری نقل و حمل کا اہم مرکز بن سکتی ہے۔