آبنائے ہرمز شپنگ

آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی روانگی بحال

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود کئی تیل اور ایل این جی بردار جہازوں نے دوبارہ سفر شروع کر دیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز شپنگ کی محدود بحالی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق کچھ جہاز پاکستان اور چین کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع نے فروری کے آخر سے آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا۔ یہ اہم سمندری راستہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور ایل این جی سپلائی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس میں رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ سمجھی جاتی ہے۔

ایل این جی بردار جہاز فُویرت پیر کے روز آبنائے ہرمز عبور کر کے پاکستان کی جانب روانہ ہوا۔ یہ جہاز قطر کی راس لفان بندرگاہ سے گیس لوڈ کرنے کے بعد کئی ہفتوں تک تاخیر کا شکار رہا تھا۔ موجودہ صورتحال میں اس کی روانگی کو اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک اور ایل این جی جہاز الریان بھی آبنائے ہرمز شپنگ روٹ سے نکل کر چین کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ یہ جہاز جون کے آخر میں چین پہنچنے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق ان جہازوں کی روانگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی سپلائی چین آہستہ آہستہ بحال ہو رہی ہے۔

اسی دوران عراقی خام تیل لے جانے والا سپر ٹینکر ایگل ویرونا بھی تقریباً تین ماہ بعد خلیج سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ جہاز تقریباً 20 لاکھ بیرل بصرہ خام تیل لے کر چین جا رہا ہے اور اگلے ماہ ننگبو بندرگاہ پہنچنے کی توقع ہے۔

جنگ سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ 125 سے 140 جہاز گزرتے تھے، لیکن تنازع کے بعد سمندری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق اب بھی ہزاروں ملاح خلیجی پانیوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور محفوظ راستے کے منتظر ہیں۔

دنیا بھر کی حکومتیں، توانائی کمپنیاں اور تجارتی ادارے آبنائے ہرمز شپنگ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی تیل قیمتوں، ایل این جی سپلائی اور سمندری تجارت پر دوبارہ منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین